8 فروری 2014 - 20:30
سعودی عرب شام میں دھشتگردوں کی مدد بند کرے

شام کے وزیر اطلاعات نے سعودی عرب میں دھشتگردی کے خلاف نئے قانون کو ایک نمائشی اقدام قرار دیا اور دھشتگردوں کے حوالے سے اس ملک کی ہمہ جہتی حمایت کو بند کیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ابنا: شام کے وزیر اطلاعات نے سعودی عرب میں دھشتگردی کے خلاف نئے قانون کو ایک نمائشی اقدام قرار دیا اور دھشتگردوں کے حوالے سے اس ملک کی ہمہ جہتی حمایت کو بند کیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق شام کے وزیر اطلاعات "عمران الزعبی" نے سعودی عرب پر لزام لگایا کہ وہ شام میں دھشتگردوں کی مالی و لاجیسٹک  مدد و حمایت رہا ہے۔ شام کے وزیر اطلاعات نے سعودی عرب کی آل سعود حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دھشتگردوں کی حمایت بند اور شام میں دھشتگردی کے حوالے سے اپنے موقف کو واضح کرے۔ "عمران الزعبی" نے کہا کہ دھشتگرد شام میں سرکاری پارسپورٹ کے ساتھ داخل نہیں ہوتے ہیں۔ شام کے وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے بادشاہ کے حکم کے مطابق اس ملک کے جو باشندے دیگر ملکوں میں دھشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث ہیں ان کو سعودی عرب کے قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں گی لیکن اس حکم میں شام میں برسرے پیکار سعودی عرب کے دھشتگردوں کے حوالے سے کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔یادرہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے تین فروری کو ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے مطابق دیگر ملکوں میں جنگ کرنے والے سعودی باشندوں اور دھشتگرد گروہوں کے عناصر اور انتہا پسندوں کو تین سے بیس سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲